نئی دہلی،16اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنگِ آزادی میں مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ فیضان نبوت کے مہتمم مولانا اسعد مختار نے کہا کہ ہمارے اکابر و اسلاف جنگ آزادی کی راہوں میں روشن چراغ اور منور فانوس تھے جن کی روشنی سے جنگ آزادی کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ یہ بات انہوں نے جامعہ فیضان نبوت ،جامعہ نگر دہلی میں منعقدہ جشن آزادی کی تقریب میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ ان مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور جہدمسلسل کی وجہ سے آزادی کی بیش بہا نعمت نصیب ہوئی لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جنگ آزادی کے مجاہدین کو فراموش کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ جگہوں پر نصابی کتابوں سے بھی ان مجاہدین آزادی کا نام ہٹایا جارہا ہے تاکہ نئی نسل کو ان کی قربانیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ جنگ آزادی میں حصہ لینے والے اپنے رہنماؤں اور اکابر کو نہ صرف یاد رکھیں گے بلکہ ان کے نام پر ادارے قائم کرکے اور ان کے بارے میں سیمنار کرکے لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں گے۔مولانااسعدمختارنے مزید کہا کہ اس ضمن میں ہمیں دوسری قوموں سے سبق لینا ہوگا کہ انہوں نے سخت ترین حالات میں بھی نہ صرف اپنے زبان کی حفاظت کی بلکہ اپنے اسلاف کی وراثت کو سجا اور سنوار کر رکھا تھا۔مرکز التعلیم الاسلامی کے سربراہ مفتی شاہ نجم نے کہا کہ آزادی کی وراثت کو سنبھال کر رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کواس کے بارے میں آگاہ کریں کیوں کہ جب ہم ہی بھول رہے ہیں تو نئی نسل کہاں یاد رکھے گی۔جامعہ فیضان نبوت کے ناظم تنظیم وترقی قاری عبید اللہ اور نائب مہتمم قاری عمر فاروق اور آل انڈیا تنظیم علماء حق کے آرگنائزر قاری شمشاد قاسمی نے کہاکہ ایک سازش کے تحت ہمارے اسلاف کی قربانیوں کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے ہمیں اس شعبے پرخاص طورپر توجہ دینی ہوگی۔یہ پروگرام مرکزدعوت اسلامی ہند کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔